Divorce
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ مَتَى يُضْرَبُ لَهُ الأَجَلُ أَمِنْ يَوْمِ يَبْنِي بِهَا أَمْ مِنْ يَوْمِ تُرَافِعُهُ إِلَى السُّلْطَانِ فَقَالَ بَلْ مِنْ يَوْمِ تُرَافِعُهُ إِلَى السُّلْطَانِ . قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا الَّذِي قَدْ مَسَّ امْرَأَتَهُ ثُمَّ اعْتَرَضَ عَنْهَا فَإِنِّي لَمْ أَسْمَعْ أَنَّهُ يُضْرَبُ لَهُ أَجَلٌ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا .امام مالک نے ابن شہاب سے پوچھا کہ کب سے ایک برس کی مہلت دی جائے گی جس روز سے خلوت ہوئی یا جس روز سے مقدمہ پیش ہوا حکم کے سامنے انہوں نے کہا جس روز مقدمہ پیش ہوا اس روز سے دعوت دی جائے گی ۔
درجات