Tahajjud
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، رَقَدَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ لِخَادِمِهِ انْظُرْ مَا صَنَعَ النَّاسُ . وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ . فَذَهَبَ الْخَادِمُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ قَدِ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الصُّبْحِ . فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَأَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ .سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سو رہے پھر جاگے تو کہا آپ نے خادم سے دیکھو لوگ کیا کر رہے ہیں اور ان دنوں میں عبداللہ بن عباس کی بصارت جاتی رہی تھی سو گیا خادم پھر آیا اور کہا کہ لوگ پڑھ چکے صبح کی نماز تو کھڑے ہوئے عبداللہ بن عباس اور وتر پڑھے پھر نماز پڑھی صبح کی ۔
درجات