تَبَـٰرَكَ ٱلَّذِى بِيَدِهِ ٱلْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ١
بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تَبَـٰرَكَ ٱلَّذِى بِيَدِهِ ٱلْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ١
بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے
ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْمَوْتَ وَٱلْحَيَوٰةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفُورُ٢
جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے
ٱلَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَـٰوَٰتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِى خَلْقِ ٱلرَّحْمَـٰنِ مِن تَفَـٰوُتٍ ۖ فَٱرْجِعِ ٱلْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ٣
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمٰن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے
ثُمَّ ٱرْجِعِ ٱلْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ ٱلْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ٤
پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے تیری نگاه تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی
وَلَقَدْ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنْيَا بِمَصَـٰبِيحَ وَجَعَلْنَـٰهَا رُجُومًا لِّلشَّيَـٰطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ٥
بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (ستاروں) سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنا دیا اور شیطانوں کے لیے ہم نے (دوزخ کا جلانے واﻻ) عذاب تیار کر دیا
وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ٦
اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وه کیا ہی بری جگہ ہے
إِذَآ أُلْقُوا۟ فِيهَا سَمِعُوا۟ لَهَا شَهِيقًا وَهِىَ تَفُورُ٧
جب اس میں یہ ڈالے جائیں گے تو اس کی بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وه جوش مار رہی ہوگی
تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ ٱلْغَيْظِ ۖ كُلَّمَآ أُلْقِىَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَآ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ٨
قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟
قَالُوا۟ بَلَىٰ قَدْ جَآءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ كَبِيرٍ٩
وه جواب دیں گے کہ بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نےکچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ تم بہت بڑی گمراہی میں ہی ہو
وَقَالُوا۟ لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِىٓ أَصْحَـٰبِ ٱلسَّعِيرِ١٠
اور کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں (شریک) نہ ہوتے
فَٱعْتَرَفُوا۟ بِذَنۢبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَـٰبِ ٱلسَّعِيرِ١١
پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا۔ اب یہ دوزخی دفع ہوں (دور ہوں)
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِٱلْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ١٢
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے
وَأَسِرُّوا۟ قَوْلَكُمْ أَوِ ٱجْهَرُوا۟ بِهِۦٓ ۖ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ١٣
تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے
أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ١٤
کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ پھر وه باریک بین اور باخبر بھی ہو
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ ذَلُولًا فَٱمْشُوا۟ فِى مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا۟ مِن رِّزْقِهِۦ ۖ وَإِلَيْهِ ٱلنُّشُورُ١٥
وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے
ءَأَمِنتُم مَّن فِى ٱلسَّمَآءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ ٱلْأَرْضَ فَإِذَا هِىَ تَمُورُ١٦
کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے
أَمْ أَمِنتُم مَّن فِى ٱلسَّمَآءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ١٧
یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تم پر پتھر برسادے؟ پھر تو تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا
وَلَقَدْ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ١٨
اوران سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا کچھ ہوا؟
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَـٰٓفَّـٰتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا ٱلرَّحْمَـٰنُ ۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَىْءٍۭ بَصِيرٌ١٩
کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے، انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا وفضا میں) تھامے ہوئے ہے۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاه میں ہے
أَمَّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ۚ إِنِ ٱلْكَـٰفِرُونَ إِلَّا فِى غُرُورٍ٢٠
سوائے اللہ کے تمہارا وه کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے کافر تو سراسر دھوکے ہی میں ہیں
أَمَّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُۥ ۚ بَل لَّجُّوا۟ فِى عُتُوٍّ وَنُفُورٍ٢١
اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا؟ بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں
أَفَمَن يَمْشِى مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِۦٓ أَهْدَىٰٓ أَمَّن يَمْشِى سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ٢٢
اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟
قُلْ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَـٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ٢٣
کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو
قُلْ هُوَ ٱلَّذِى ذَرَأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ٢٤
کہہ دیجئے! کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اس کی طرف سے تم اکٹھے کیے جاؤ گے
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ٢٥
(کافر) پوچھتے ہیں کہ وه وعده کب ﻇاہر ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ؟)
قُلْ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌ مُّبِينٌ٢٦
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں
فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيٓـَٔتْ وُجُوهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَقِيلَ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تَدَّعُونَ٢٧
جب یہ لوگ اس وعدے کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِىَ ٱللَّهُ وَمَن مَّعِىَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ ٱلْكَـٰفِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ٢٨
آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟
قُلْ هُوَ ٱلرَّحْمَـٰنُ ءَامَنَّا بِهِۦ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ٢٩
آپ کہہ دیجئے! کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان ﻻچکے اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَآءٍ مَّعِينٍۭ٣٠
آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا پانی ﻻئے؟
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
نٓ ۚ وَٱلْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ١
ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں
مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ٢
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے
وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ٣
اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ٤
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ٥
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے
بِأَييِّكُمُ ٱلْمَفْتُونُ٦
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ٧
بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے
فَلَا تُطِعِ ٱلْمُكَذِّبِينَ٨
پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان
وَدُّوا۟ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ٩
وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ١٠
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ
هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيمٍ١١
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ١٢
بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار
عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ١٣
گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ١٤
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا قَالَ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ١٥
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں
سَنَسِمُهُۥ عَلَى ٱلْخُرْطُومِ١٦
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے
إِنَّا بَلَوْنَـٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـٰبَ ٱلْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا۟ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ١٧
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے
وَلَا يَسْتَثْنُونَ١٨
اور انشاءاللہ نہ کہا
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ١٩
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے
فَأَصْبَحَتْ كَٱلصَّرِيمِ٢٠
پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
فَتَنَادَوْا۟ مُصْبِحِينَ٢١
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں
أَنِ ٱغْدُوا۟ عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰرِمِينَ٢٢
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو
فَٱنطَلَقُوا۟ وَهُمْ يَتَخَـٰفَتُونَ٢٣
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے
أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا ٱلْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ٢٤
کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے
وَغَدَوْا۟ عَلَىٰ حَرْدٍ قَـٰدِرِينَ٢٥
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوٓا۟ إِنَّا لَضَآلُّونَ٢٦
جب انہوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ٢٧
نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی
قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ٢٨
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟
قَالُوا۟ سُبْحَـٰنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـٰلِمِينَ٢٩
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَـٰوَمُونَ٣٠
پھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے
قَالُوا۟ يَـٰوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـٰغِينَ٣١
کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے
عَسَىٰ رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا رَٰغِبُونَ٣٢
کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں
كَذَٰلِكَ ٱلْعَذَابُ ۖ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ٣٣
یوں ہی آفت آتی ہے اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ٣٤
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں
أَفَنَجْعَلُ ٱلْمُسْلِمِينَ كَٱلْمُجْرِمِينَ٣٥
کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گے
مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ٣٦
تمہیں کیا ہوگیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟
أَمْ لَكُمْ كِتَـٰبٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ٣٧
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ٣٨
کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟
أَمْ لَكُمْ أَيْمَـٰنٌ عَلَيْنَا بَـٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ٣٩
یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو
سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ٤٠
ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟
أَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ فَلْيَأْتُوا۟ بِشُرَكَآئِهِمْ إِن كَانُوا۟ صَـٰدِقِينَ٤١
کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہئے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ٤٢
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گے
خَـٰشِعَةً أَبْصَـٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ وَقَدْ كَانُوا۟ يُدْعَوْنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمْ سَـٰلِمُونَ٤٣
نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ٤٤
پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا
وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ٤٥
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے
أَمْ تَسْـَٔلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ٤٦
کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں
أَمْ عِندَهُمُ ٱلْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ٤٧
یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں
فَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ٤٨
پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی
لَّوْلَآ أَن تَدَٰرَكَهُۥ نِعْمَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ لَنُبِذَ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ٤٩
اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا
فَٱجْتَبَـٰهُ رَبُّهُۥ فَجَعَلَهُۥ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ٥٠
اسے اس کے رب نے پھر نوازا اور اسے نیک کاروں میں کر دیا
وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَـٰرِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا۟ ٱلذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُۥ لَمَجْنُونٌ٥١
اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے
وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَـٰلَمِينَ٥٢
در حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
ٱلْحَآقَّةُ١
ﺛابت ہونے والی
مَا ٱلْحَآقَّةُ٢
ﺛابت ہونے والی کیا ہے؟
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحَآقَّةُ٣
اور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟
كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌۢ بِٱلْقَارِعَةِ٤
اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا
فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا۟ بِٱلطَّاغِيَةِ٥
(جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا۟ بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ٦
اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے
سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـٰنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى ٱلْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ٧
جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک (اللہ نے) مسلط رکھا پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں
فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّنۢ بَاقِيَةٍ٨
کیا ان میں سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے؟
وَجَآءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُۥ وَٱلْمُؤْتَفِكَـٰتُ بِٱلْخَاطِئَةِ٩
فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی، انہوں نے بھی خطائیں کیں
فَعَصَوْا۟ رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً١٠
اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی (بالﺂخر) اللہ نے انہیں (بھی) زبردست گرفت میں لے لیا
إِنَّا لَمَّا طَغَا ٱلْمَآءُ حَمَلْنَـٰكُمْ فِى ٱلْجَارِيَةِ١١
جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا
لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَٰعِيَةٌ١٢
تاکہ اسے تمہارے لیے نصیحت اور یادگار بنادیں، اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں
فَإِذَا نُفِخَ فِى ٱلصُّورِ نَفْخَةٌ وَٰحِدَةٌ١٣
پس جب کہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی
وَحُمِلَتِ ٱلْأَرْضُ وَٱلْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَٰحِدَةً١٤
اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزه ریزه کر دیے جائیں گے
فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ ٱلْوَاقِعَةُ١٥
اس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی
وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِىَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ١٦
اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا
وَٱلْمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرْجَآئِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَـٰنِيَةٌ١٧
اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے
يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ١٨
اس دن تم سب سامنے پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیده نہ رہے گا
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقْرَءُوا۟ كِتَـٰبِيَهْ١٩
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو
إِنِّى ظَنَنتُ أَنِّى مُلَـٰقٍ حِسَابِيَهْ٢٠
مجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے
فَهُوَ فِى عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ٢١
پس وه ایک دل پسند زندگی میں ہوگا
فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍ٢٢
بلند وباﻻ جنت میں
قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ٢٣
جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے
كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَآ أَسْلَفْتُمْ فِى ٱلْأَيَّامِ ٱلْخَالِيَةِ٢٤
(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِشِمَالِهِۦ فَيَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى لَمْ أُوتَ كِتَـٰبِيَهْ٢٥
لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وه تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی
وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ٢٦
اور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے
يَـٰلَيْتَهَا كَانَتِ ٱلْقَاضِيَةَ٢٧
کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی
مَآ أَغْنَىٰ عَنِّى مَالِيَهْ ۜ٢٨
میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا
هَلَكَ عَنِّى سُلْطَـٰنِيَهْ٢٩
میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا
خُذُوهُ فَغُلُّوهُ٣٠
(حکم ہوگا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنادو
ثُمَّ ٱلْجَحِيمَ صَلُّوهُ٣١
پھر اسے دوزخ میں ڈال دو
ثُمَّ فِى سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَٱسْلُكُوهُ٣٢
پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو
إِنَّهُۥ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ ٱلْعَظِيمِ٣٣
بیشک یہ اللہ عظمت والے پرایمان نہ رکھتا تھا
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ٣٤
اور مسکین کے کھلانے پر رغبت نہ دﻻتا تھا
فَلَيْسَ لَهُ ٱلْيَوْمَ هَـٰهُنَا حَمِيمٌ٣٥
پس آج اس کا نہ کوئی دوست ہے
وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ٣٦
اور نہ سوائے پیﭗ کے اس کی کوئی غذا ہے
لَّا يَأْكُلُهُۥٓ إِلَّا ٱلْخَـٰطِـُٔونَ٣٧
جسے گناه گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا
فَلَآ أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ٣٨
پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو
وَمَا لَا تُبْصِرُونَ٣٩
اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے
إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ٤٠
کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ٤١
یہ کسی شاعر کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے
وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ٤٢
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو
تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ٤٣
(یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ ٱلْأَقَاوِيلِ٤٤
اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا
لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِٱلْيَمِينِ٤٥
تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے
ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ ٱلْوَتِينَ٤٦
پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے
فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَـٰجِزِينَ٤٧
پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا
وَإِنَّهُۥ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ٤٨
یقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے
وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ٤٩
ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں
وَإِنَّهُۥ لَحَسْرَةٌ عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ٥٠
بیشک (یہ جھٹلانا) کافروں پر حسرت ہے
وَإِنَّهُۥ لَحَقُّ ٱلْيَقِينِ٥١
اور بیشک (و شبہ) یہ یقینی حق ہے
فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِ٥٢
پس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
سَأَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ١
ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے واﻻ ہے
لِّلْكَـٰفِرِينَ لَيْسَ لَهُۥ دَافِعٌ٢
کافروں پر، جسے کوئی ہٹانے واﻻ نہیں
مِّنَ ٱللَّهِ ذِى ٱلْمَعَارِجِ٣
اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں واﻻ ہے
تَعْرُجُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُۥ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ٤
جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے
فَٱصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا٥
پس تو اچھی طرح صبر کر
إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُۥ بَعِيدًا٦
بیشک یہ اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں
وَنَرَىٰهُ قَرِيبًا٧
اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں
يَوْمَ تَكُونُ ٱلسَّمَآءُ كَٱلْمُهْلِ٨
جس دن آسمان مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا
وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ٩
اور پہاڑ مثل رنگین اون کے ہو جائیں گے
وَلَا يَسْـَٔلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا١٠
اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا
يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ ٱلْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِى مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍۭ بِبَنِيهِ١١
(حاﻻنکہ) ایک دوسرے کو دکھا دیئے جائیں گے، گناهگار اس دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں اپنے بیٹوں کو
وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَأَخِيهِ١٢
اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو
وَفَصِيلَتِهِ ٱلَّتِى تُـْٔوِيهِ١٣
اور اپنے کنبے کو جو اسے پناه دیتا تھا
وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ١٤
اور روئے زمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا تاکہ یہ اسے نجات دﻻ دے
كَلَّآ ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ١٥
(مگر) ہرگز یہ نہ ہوگا، یقیناً وه شعلہ والی (آگ) ہے
نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ١٦
جو منھ اور سر کی کھال کھینچ ﻻنے والی ہے
تَدْعُوا۟ مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ١٧
وه ہر اس شخص کو پکارے گی جو پیچھے ہٹتا اور منھ موڑتا ہے
وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰٓ١٨
اور جمع کرکے سنبھال رکھتا ہے
۞ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا١٩
بیشک انسان بڑے کچے دل واﻻ بنایا گیا ہے
إِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ جَزُوعًا٢٠
جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو ہڑبڑا اٹھتا ہے
وَإِذَا مَسَّهُ ٱلْخَيْرُ مَنُوعًا٢١
اور جب راحت ملتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے
إِلَّا ٱلْمُصَلِّينَ٢٢
مگر وه نمازی
ٱلَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَآئِمُونَ٢٣
جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں
وَٱلَّذِينَ فِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ٢٤
اور جن کے مالوں میں مقرره حصہ ہے
لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ٢٥
مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی
وَٱلَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ٢٦
اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ٢٧
اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں
إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ٢٨
بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَـٰفِظُونَ٢٩
اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی (حرام سے) حفاﻇت کرتے ہیں
إِلَّا عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ٣٠
ہاں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وه مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں
فَمَنِ ٱبْتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْعَادُونَ٣١
اب جو کوئی اس کے علاوه (راه) ڈھونڈے گا توایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں گے
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِأَمَـٰنَـٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَٰعُونَ٣٢
اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُم بِشَهَـٰدَٰتِهِمْ قَآئِمُونَ٣٣
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ٣٤
اور جو اپنی نمازوں کی حفاﻇت کرتے ہیں
أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى جَنَّـٰتٍ مُّكْرَمُونَ٣٥
یہی لوگ جنتوں میں عزت والے ہوں گے
فَمَالِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ٣٦
پس کافروں کو کیاہو گیا ہے کہ وه تیری طرف دوڑتے آتے ہیں
عَنِ ٱلْيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ عِزِينَ٣٧
دائیں اور بائیں سے گروه کے گروه
أَيَطْمَعُ كُلُّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ٣٨
کیا ان میں سے ہر ایک کی توقع یہ ہے کہ وه نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
كَلَّآ ۖ إِنَّا خَلَقْنَـٰهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ٣٩
(ایسا) ہرگز نہ ہوگا۔ ہم نے انہیں اس (چیز) سے پیدا کیا ہے جسے وه جانتے ہیں
فَلَآ أُقْسِمُ بِرَبِّ ٱلْمَشَـٰرِقِ وَٱلْمَغَـٰرِبِ إِنَّا لَقَـٰدِرُونَ٤٠
پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں کے رب کی (کہ) ہم یقیناً قادر ہیں
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ٤١
اس پر کہ ان کے عوض ان سے اچھے لوگ لے آئیں اور ہم عاجز نہیں ہیں
فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ٤٢
پس تو انہیں جھگڑتا کھیلتا چھوڑ دے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعده کیا جاتا ہے
يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ٤٣
جس دن یہ قبروں سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، گویا کہ وه کسی جگہ کی طرف تیز تیز جا رہے ہیں
خَـٰشِعَةً أَبْصَـٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ٤٤
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھا رہی ہوگی، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
إِنَّآ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ١
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے
قَالَ يَـٰقَوْمِ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ٢
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں
أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ٣
کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو
يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ إِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ٤
تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی
قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِى لَيْلًا وَنَهَارًا٥
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے
فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارًا٦
مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیاده بھاگنے لگے
وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًا٧
میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا
ثُمَّ إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا٨
پھر میں نے انہیں بﺂواز بلند بلایا
ثُمَّ إِنِّىٓ أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا٩
اور بیشک میں نےان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی
فَقُلْتُ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارًا١٠
اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے
يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا١١
وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا
وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَٰلٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّـٰتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَـٰرًا١٢
اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اوﻻد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا
مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا١٣
تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیده نہیں رکھتے
وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا١٤
حاﻻنکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے پیدا کیا ہے
أَلَمْ تَرَوْا۟ كَيْفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبْعَ سَمَـٰوَٰتٍ طِبَاقًا١٥
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں
وَجَعَلَ ٱلْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ ٱلشَّمْسَ سِرَاجًا١٦
اور ان میں چاند کو جگمگاتا بنایا ہے اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے
وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ نَبَاتًا١٧
اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (اور پیدا کیا ہے)
ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا١٨
پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ بِسَاطًا١٩
اور تمہارے لیے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنادیا ہے
لِّتَسْلُكُوا۟ مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا٢٠
تاکہ تم اس کی کشاده راہوں میں چلو پھرو
قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِى وَٱتَّبَعُوا۟ مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارًا٢١
نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے
وَمَكَرُوا۟ مَكْرًا كُبَّارًا٢٢
اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا
وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا٢٣
اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا)
وَقَدْ أَضَلُّوا۟ كَثِيرًا ۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا ضَلَـٰلًا٢٤
اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا
مِّمَّا خَطِيٓـَٔـٰتِهِمْ أُغْرِقُوا۟ فَأُدْخِلُوا۟ نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا۟ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَنصَارًا٢٥
یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نے نہ پایا
وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَـٰفِرِينَ دَيَّارًا٢٦
اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ
إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا۟ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓا۟ إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا٢٧
اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراه کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے
رَّبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارًۢا٢٨
اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قُلْ أُوحِىَ إِلَىَّ أَنَّهُ ٱسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَقَالُوٓا۟ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا١
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا اور کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے
يَهْدِىٓ إِلَى ٱلرُّشْدِ فَـَٔامَنَّا بِهِۦ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ أَحَدًا٢
جو راه راست کے طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان ﻻ چکے (اب) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے
وَأَنَّهُۥ تَعَـٰلَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا ٱتَّخَذَ صَـٰحِبَةً وَلَا وَلَدًا٣
اور بیشک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا
وَأَنَّهُۥ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى ٱللَّهِ شَطَطًا٤
اور یہ کہ ہم میں کا بیوقوف اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کہا کرتا تھا
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن تَقُولَ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا٥
اور ہم تو یہی سمجھتے رہے کہ ناممکن ہے کہ انسانوں اور جنات اللہ پر جھوٹی باتیں لگائیں
وَأَنَّهُۥ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ ٱلْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا٦
بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناه طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے
وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا۟ كَمَا ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَبْعَثَ ٱللَّهُ أَحَدًا٧
اور (انسانوں) نے بھی تم جنوں کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا (یا کسی کو دوباره زنده نہ کرے گا)
وَأَنَّا لَمَسْنَا ٱلسَّمَآءَ فَوَجَدْنَـٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا٨
اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا
وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَـٰعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَن يَسْتَمِعِ ٱلْـَٔانَ يَجِدْ لَهُۥ شِهَابًا رَّصَدًا٩
اس سے پہلے ہم باتیں سننے کے لیے آسمان میں جگہ جگہ بیٹھ جایا کرتے تھے۔ اب جو بھی کان لگاتا ہے وه ایک شعلے کو اپنی تاک میں پاتا ہے
وَأَنَّا لَا نَدْرِىٓ أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى ٱلْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا١٠
ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا اراده کیا گیا ہے یا ان کے رب کا اراده ان کے ساتھ بھلائی کا ہے
وَأَنَّا مِنَّا ٱلصَّـٰلِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا١١
اور یہ کہ (بیشک) بعض تو ہم میں نیکو کار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن نُّعْجِزَ ٱللَّهَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُۥ هَرَبًا١٢
اور ہم نے سمجھ لیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ہم بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں
وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا ٱلْهُدَىٰٓ ءَامَنَّا بِهِۦ ۖ فَمَن يُؤْمِنۢ بِرَبِّهِۦ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا١٣
ہم تو ہدایت کی بات سنتے ہی اس پر ایمان ﻻئے چکے اور جو بھی اپنے رب پر ایمان ﻻئے گا اسے نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہے نہ ﻇلم وستم کا
وَأَنَّا مِنَّا ٱلْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ تَحَرَّوْا۟ رَشَدًا١٤
ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بےانصاف ہیں پس جو فرماں بردار ہوگئے انہوں نے تو راه راست کا قصد کیا
وَأَمَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ فَكَانُوا۟ لِجَهَنَّمَ حَطَبًا١٥
اور جو ﻇالم ہیں وه جہنم کا ایندھن بن گئے
وَأَلَّوِ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَـٰهُم مَّآءً غَدَقًا١٦
اور (اے نبی یہ بھی کہہ دو) کہ اگر لوگ راه راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے
لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَن يُعْرِضْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِۦ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا١٧
تاکہ ہم اس میں انہیں آزمالیں، اور جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے منھ پھیر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا
وَأَنَّ ٱلْمَسَـٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدًا١٨
اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو
وَأَنَّهُۥ لَمَّا قَامَ عَبْدُ ٱللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا۟ يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا١٩
اور جب اللہ کا بنده اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وه بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں
قُلْ إِنَّمَآ أَدْعُوا۟ رَبِّى وَلَآ أُشْرِكُ بِهِۦٓ أَحَدًا٢٠
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
قُلْ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا٢١
کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں
قُلْ إِنِّى لَن يُجِيرَنِى مِنَ ٱللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلْتَحَدًا٢٢
کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا اور میں ہرگز اس کے سوا کوئی جائے پناه بھی پا نہیں سکتا
إِلَّا بَلَـٰغًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِسَـٰلَـٰتِهِۦ ۚ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا٢٣
البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے، (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے
حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوْا۟ مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا٢٤
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے
قُلْ إِنْ أَدْرِىٓ أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُۥ رَبِّىٓ أَمَدًا٢٥
کہہ دیجئے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس کا وعده تم سے کیا جاتا ہے وه قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے دور کی مدت مقرر کرے گا
عَـٰلِمُ ٱلْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِۦٓ أَحَدًا٢٦
وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا
إِلَّا مَنِ ٱرْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُۥ يَسْلُكُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ رَصَدًا٢٧
سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کرلے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے
لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا۟ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَىْءٍ عَدَدًۢا٢٨
تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھا ہے
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمُزَّمِّلُ١
اے کپڑے میں لپٹنے والے
قُمِ ٱلَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا٢
رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر کم
نِّصْفَهُۥٓ أَوِ ٱنقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا٣
آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے
أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ ٱلْقُرْءَانَ تَرْتِيلًا٤
یا اس پر بڑھا دے اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کر
إِنَّا سَنُلْقِى عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا٥
یقیناً ہم تجھ پر بہت بھاری بات عنقریب نازل کریں گے
إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّيْلِ هِىَ أَشَدُّ وَطْـًٔا وَأَقْوَمُ قِيلًا٦
بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب ہے اور بات کو بہت درست کر دینے واﻻ ہے
إِنَّ لَكَ فِى ٱلنَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا٧
یقیناً تجھے دن میں بہت شغل رہتا ہے
وَٱذْكُرِ ٱسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا٨
تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجا
رَّبُّ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱتَّخِذْهُ وَكِيلًا٩
مشرق ومغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کار ساز بنالے
وَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا١٠
اور جو کچھ وه کہیں تو سہتا ره اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ ره
وَذَرْنِى وَٱلْمُكَذِّبِينَ أُو۟لِى ٱلنَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا١١
اور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسوده حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے
إِنَّ لَدَيْنَآ أَنكَالًا وَجَحِيمًا١٢
یقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم ہے
وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا١٣
اور حلق میں اٹکنے واﻻ کھانا ہے اور درد دینے واﻻ عذاب ہے
يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلْأَرْضُ وَٱلْجِبَالُ وَكَانَتِ ٱلْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًا١٤
جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرا جائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہوجائیں گے
إِنَّآ أَرْسَلْنَآ إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَـٰهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَآ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا١٥
بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے واﻻ رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا
فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ ٱلرَّسُولَ فَأَخَذْنَـٰهُ أَخْذًا وَبِيلًا١٦
تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال کی) پکڑ میں پکڑ لیا
فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ ٱلْوِلْدَٰنَ شِيبًا١٧
تم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناه پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا
ٱلسَّمَآءُ مُنفَطِرٌۢ بِهِۦ ۚ كَانَ وَعْدُهُۥ مَفْعُولًا١٨
جس دن آسمان پھٹ جائے گا اللہ تعالیٰ کا یہ وعده ہو کر ہی رہنے واﻻ ہے
إِنَّ هَـٰذِهِۦ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًا١٩
بیشک یہ نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راه اختیار کرے
۞ إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَىِ ٱلَّيْلِ وَنِصْفَهُۥ وَثُلُثَهُۥ وَطَآئِفَةٌ مِّنَ ٱلَّذِينَ مَعَكَ ۚ وَٱللَّهُ يُقَدِّرُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ ۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَٱقْرَءُوا۟ مَا تَيَسَّرَ مِنَ ٱلْقُرْءَانِ ۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَءَاخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِى ٱلْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ ۙ وَءَاخَرُونَ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ فَٱقْرَءُوا۟ مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَقْرِضُوا۟ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا۟ لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَٱسْتَغْفِرُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌۢ٢٠
آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے اور رات دن کا پورا اندازه اللہ تعالیٰ کو ہی ہے، وه (خوب) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے پس اس نے تم پر مہربانی کی لہٰذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو، وه جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے، سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ﺛواب میں بہت زیاده پاؤ گے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمُدَّثِّرُ١
اے کپڑا اوڑھنے والے
قُمْ فَأَنذِرْ٢
کھڑا ہوجا اور آگاه کردے
وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ٣
اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ٤
اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر
وَٱلرُّجْزَ فَٱهْجُرْ٥
ناپاکی کو چھوڑ دے
وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ٦
اور احسان کرکے زیاده لینے کی خواہش نہ کر
وَلِرَبِّكَ فَٱصْبِرْ٧
اور اپنے رب کی راه میں صبر کر
فَإِذَا نُقِرَ فِى ٱلنَّاقُورِ٨
پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی
فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ٩
تو وه دن بڑا سخت دن ہوگا
عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ١٠
جو کافروں پر آسان نہ ہوگا
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا١١
مجھے اور اسے چھوڑ دے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے
وَجَعَلْتُ لَهُۥ مَالًا مَّمْدُودًا١٢
اور اسے بہت سا مال دے رکھا ہے
وَبَنِينَ شُهُودًا١٣
اور حاضر باش فرزند بھی
وَمَهَّدتُّ لَهُۥ تَمْهِيدًا١٤
اور میں نے اسے بہت کچھ کشادگی دے رکھی ہے
ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ١٥
پھر بھی اس کی چاہت ہے کہ میں اسے اور زیاده دوں
كَلَّآ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ لِـَٔايَـٰتِنَا عَنِيدًا١٦
نہیں نہیں، وه ہماری آیتوں کا مخالف ہے
سَأُرْهِقُهُۥ صَعُودًا١٧
عنقریب میں اسے ایک سخت چڑھائی چڑھاؤں گا
إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ١٨
اس نے غور کرکے تجویز کی
فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ١٩
اسے ہلاکت ہو کیسی (تجویز) سوچی؟
ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ٢٠
وه پھر غارت ہو کس طرح اندازه کیا
ثُمَّ نَظَرَ٢١
اس نے پھر دیکھا
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ٢٢
پھر تیوری چڑھائی اور منھ بنایا
ثُمَّ أَدْبَرَ وَٱسْتَكْبَرَ٢٣
پھر پیچھے ہٹ گیا اور غرور کیا
فَقَالَ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ٢٤
اور کہنے لگا تو یہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے
إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا قَوْلُ ٱلْبَشَرِ٢٥
سوائے انسانی کلام کے کچھ بھی نہیں ہے
سَأُصْلِيهِ سَقَرَ٢٦
میں عنقریب اسے دوزخ میں ڈالوں گا
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سَقَرُ٢٧
اور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا چیز ہے؟
لَا تُبْقِى وَلَا تَذَرُ٢٨
نہ وه باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے
لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ٢٩
کھال کو جھلسا دیتی ہے
عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ٣٠
اور اس میں انیس (فرشتے مقرر) ہیں
وَمَا جَعَلْنَآ أَصْحَـٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَـٰٓئِكَةً ۙ وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيَسْتَيْقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ وَيَزْدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِيمَـٰنًا ۙ وَلَا يَرْتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۙ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَٱلْكَـٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا مَثَلًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ۚ وَمَا هِىَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْبَشَرِ٣١
ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں۔ اور ہم نے ان کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کی ہے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں، اوراہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وه اور کافر کہیں کہ اس بیان سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، یہ تو کل بنی آدم کے لیے سراسر پند ونصیحت ہے
كَلَّا وَٱلْقَمَرِ٣٢
سچ کہتا ہوں قسم ہے چاند کی
وَٱلَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ٣٣
اور رات کی جب وه پیچھے ہٹے
وَٱلصُّبْحِ إِذَآ أَسْفَرَ٣٤
اور صبح کی جب کہ روشن ہو جائے
إِنَّهَا لَإِحْدَى ٱلْكُبَرِ٣٥
کہ (یقیناً وه جہنم) بڑی چیزوں میں سے ایک ہے
نَذِيرًا لِّلْبَشَرِ٣٦
بنی آدم کو ڈرانے والی
لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ٣٧
(یعنی) اسے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے
كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ٣٨
ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے
إِلَّآ أَصْحَـٰبَ ٱلْيَمِينِ٣٩
مگر دائیں ہاتھ والے
فِى جَنَّـٰتٍ يَتَسَآءَلُونَ٤٠
کہ وه بہشتوں میں (بیٹھے ہوئے) گناه گاروں سے
عَنِ ٱلْمُجْرِمِينَ٤١
سوال کرتے ہوں گے
مَا سَلَكَكُمْ فِى سَقَرَ٤٢
تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈاﻻ
قَالُوا۟ لَمْ نَكُ مِنَ ٱلْمُصَلِّينَ٤٣
وه جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے
وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ ٱلْمِسْكِينَ٤٤
نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے
وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلْخَآئِضِينَ٤٥
اور ہم بحﺚ کرنے والے (انکاریوں) کا ساتھ دے کر بحﺚ مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے
وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ٤٦
اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے
حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلْيَقِينُ٤٧
یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی
فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَـٰعَةُ ٱلشَّـٰفِعِينَ٤٨
پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی
فَمَا لَهُمْ عَنِ ٱلتَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ٤٩
انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ نصیحت سے منھ موڑ رہے ہیں
كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ٥٠
گویا کہ وه بِدکے ہوئے گدھے ہیں
فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍۭ٥١
جو شیر سے بھاگے ہوں
بَلْ يُرِيدُ كُلُّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُّنَشَّرَةً٥٢
بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں
كَلَّا ۖ بَل لَّا يَخَافُونَ ٱلْـَٔاخِرَةَ٥٣
ہرگز ایسا نہیں (ہوسکتا بلکہ) یہ قیامت سے بے خوف ہیں
كَلَّآ إِنَّهُۥ تَذْكِرَةٌ٥٤
سچی بات تو یہ ہے کہ یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ٥٥
اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے
وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ أَهْلُ ٱلتَّقْوَىٰ وَأَهْلُ ٱلْمَغْفِرَةِ٥٦
اور وه اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے، وه اسی ﻻئق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس ﻻئق بھی کہ وه بخشے
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ١
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی
وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِ٢
اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو
أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَـٰنُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُۥ٣
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں
بَلَىٰ قَـٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّىَ بَنَانَهُۥ٤
ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں
بَلْ يُرِيدُ ٱلْإِنسَـٰنُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُۥ٥
بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے
يَسْـَٔلُ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلْقِيَـٰمَةِ٦
پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا
فَإِذَا بَرِقَ ٱلْبَصَرُ٧
پس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی
وَخَسَفَ ٱلْقَمَرُ٨
اور چاند بے نور ہو جائے گا
وَجُمِعَ ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ٩
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے
يَقُولُ ٱلْإِنسَـٰنُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ ٱلْمَفَرُّ١٠
اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
كَلَّا لَا وَزَرَ١١
نہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمُسْتَقَرُّ١٢
آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے
يُنَبَّؤُا۟ ٱلْإِنسَـٰنُ يَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ١٣
آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا
بَلِ ٱلْإِنسَـٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ بَصِيرَةٌ١٤
بلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے
وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُۥ١٥
اگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے
لَا تُحَرِّكْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ١٦
(اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں
إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْءَانَهُۥ١٧
اس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے
فَإِذَا قَرَأْنَـٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْءَانَهُۥ١٨
ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ١٩
پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ٢٠
نہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو
وَتَذَرُونَ ٱلْـَٔاخِرَةَ٢١
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ٢٢
اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے
إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ٢٣
اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌ٢٤
اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے
تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ٢٥
سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے واﻻ معاملہ کیا جائے گا
كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَ٢٦
نہیں نہیں جب روح ہنسلی تک پہنچے گی
وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ٢٧
اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے واﻻ ہے؟
وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلْفِرَاقُ٢٨
اور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے
وَٱلْتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ٢٩
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی
إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمَسَاقُ٣٠
آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ٣١
اس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی
وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ٣٢
بلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی
ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓ٣٣
پھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا
أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ٣٤
افسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر
ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰٓ٣٥
وائے ہے اور خرابی ہے تیرے لیے
أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَـٰنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى٣٦
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا
أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَىٰ٣٧
کیا وه ایک گاڑھے پانی کا قطره نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ٣٨
پھر وه لہو کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا
فَجَعَلَ مِنْهُ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ٣٩
پھر اس سے جوڑے یعنی نر وماده بنائے
أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَـٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ٤٠
کیا (اللہ تعالیٰ) اس (امر) پر قادر نہیں کہ مردے کو زنده کردے
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
هَلْ أَتَىٰ عَلَى ٱلْإِنسَـٰنِ حِينٌ مِّنَ ٱلدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْـًٔا مَّذْكُورًا١
یقیناً گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا
إِنَّا خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَـٰهُ سَمِيعًۢا بَصِيرًا٢
بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا
إِنَّا هَدَيْنَـٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا٣
ہم نے اسے راه دکھائی اب خواه وه شکر گزار بنے خواه ناشکرا
إِنَّآ أَعْتَدْنَا لِلْكَـٰفِرِينَ سَلَـٰسِلَا۟ وَأَغْلَـٰلًا وَسَعِيرًا٤
یقیناً ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور شعلوں والی آگ تیار کر رکھی ہے
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا٥
بیشک نیک لوگ وه جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے
عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ ٱللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا٦
جو ایک چشمہ ہے۔ جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے (جدھر چاہیں)
يُوفُونَ بِٱلنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُۥ مُسْتَطِيرًا٧
جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے
وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا٨
اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو
إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَآءً وَلَا شُكُورًا٩
ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری
إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا١٠
بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی اور سختی واﻻ ہوگا
فَوَقَىٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمِ وَلَقَّىٰهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا١١
پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی
وَجَزَىٰهُم بِمَا صَبَرُوا۟ جَنَّةً وَحَرِيرًا١٢
اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے
مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا١٣
یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی
وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَـٰلُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا١٤
ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے (میوے اور) گچھے نیچے لٹکائے ہوئے ہوں گے
وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِـَٔانِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا۠١٥
اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا جو شیشے کے ہوں گے
قَوَارِيرَا۟ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا١٦
شیشے بھی چاندی کے جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہوگا
وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا١٧
اور انہیں وہاں وه جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہوگی
عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا١٨
جنت کی ایک نہر سے جس کا نام سلسبیل ہے
۞ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَٰنٌ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا١٩
اور ان کے ارد گرد گھومتے پھرتے ہوں گے وه کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وه بکھرے ہوئے سچے موتی ہیں
وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا٢٠
تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا
عَـٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوٓا۟ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَىٰهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا٢١
ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا۔ اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا
إِنَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا٢٢
(کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ تَنزِيلًا٢٣
بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے
فَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ ءَاثِمًا أَوْ كَفُورًا٢٤
پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم ره اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہا نہ مان
وَٱذْكُرِ ٱسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا٢٥
اور اپنے رب کے نام کا صبح وشام ذکر کیا کر
وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَٱسْجُدْ لَهُۥ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا٢٦
اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا٢٧
بیشک یہ لوگ جلدی ملنے والی (دنیا) کو چاہتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑے دیتے ہیں
نَّحْنُ خَلَقْنَـٰهُمْ وَشَدَدْنَآ أَسْرَهُمْ ۖ وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ أَمْثَـٰلَهُمْ تَبْدِيلًا٢٨
ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ اور بندھن مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل ﻻئیں
إِنَّ هَـٰذِهِۦ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًا٢٩
یقیناً یہ تو ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی راه لے لے
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا٣٠
اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے بیشک اللہ تعالیٰ علم واﻻ باحکمت ہے
يُدْخِلُ مَن يَشَآءُ فِى رَحْمَتِهِۦ ۚ وَٱلظَّـٰلِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۢا٣١
جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے، اور ﻇالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلْمُرْسَلَـٰتِ عُرْفًا١
دل خوش کن چلتی ہواؤں کی قسم
فَٱلْعَـٰصِفَـٰتِ عَصْفًا٢
پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم
وَٱلنَّـٰشِرَٰتِ نَشْرًا٣
پھر (ابر کو) ابھار کر پراگنده کرنے والیوں کی قسم
فَٱلْفَـٰرِقَـٰتِ فَرْقًا٤
پھر حق وباطل کو جدا جدا کر دینے والے
فَٱلْمُلْقِيَـٰتِ ذِكْرًا٥
اور وحی ﻻنے والے فرشتوں کی قسم
عُذْرًا أَوْ نُذْرًا٦
جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاه کردینے کے لیے ہوتی ہے
إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٌ٧
جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے
فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتْ٨
پس جب ستارے بے نور کردئے جائیں گے
وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتْ٩
اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا
وَإِذَا ٱلْجِبَالُ نُسِفَتْ١٠
اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں گے
وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتْ١١
اور جب رسولوں کو وقت مقرره پر ﻻیا جائے گا
لِأَىِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ١٢
کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟
لِيَوْمِ ٱلْفَصْلِ١٣
فیصلے کے دن کے لیے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ١٤
اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ١٥
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
أَلَمْ نُهْلِكِ ٱلْأَوَّلِينَ١٦
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟
ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ ٱلْـَٔاخِرِينَ١٧
پھر ہم ان کے بعد پچھلوں کو ﻻئے
كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِينَ١٨
ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ١٩
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے
أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ٢٠
کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا
فَجَعَلْنَـٰهُ فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ٢١
پھر ہم نے اسے مضبوط ومحفوظ جگہ میں رکھا
إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ٢٢
ایک مقرره وقت تک
فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ ٱلْقَـٰدِرُونَ٢٣
پھر ہم نے اندازه کیا اور ہم کیا خوب اندازه کرنے والے ہیں
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ٢٤
اس دن تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے
أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ كِفَاتًا٢٥
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟
أَحْيَآءً وَأَمْوَٰتًا٢٦
زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی
وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ شَـٰمِخَـٰتٍ وَأَسْقَيْنَـٰكُم مَّآءً فُرَاتًا٢٧
اور ہم نے اس میں بلند وبھاری پہاڑ بنادیے اور تمہیں سیراب کرنے واﻻ میٹھا پانی پلایا
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ٢٨
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے وائے اور افسوس ہے
ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ٢٩
اس دوزخ کی طرف جاؤ جسے تم جھٹلاتے رہے تھے
ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ ظِلٍّ ذِى ثَلَـٰثِ شُعَبٍ٣٠
چلو تین شاخوں والے سائے کی طرف
لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِى مِنَ ٱللَّهَبِ٣١
جو در اصل نہ سایہ دینے واﻻ ہے اور نہ شعلے سے بچاسکتا ہے
إِنَّهَا تَرْمِى بِشَرَرٍ كَٱلْقَصْرِ٣٢
یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں
كَأَنَّهُۥ جِمَـٰلَتٌ صُفْرٌ٣٣
گویا کہ وه زرد اونٹ ہیں
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ٣٤
آج ان جھٹلانے والوں کی درگت ہے
هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ٣٥
آج (کا دن) وه دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے
وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ٣٦
نہ انہیں معذرت کی اجازت دی جائے گی
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ٣٧
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَـٰكُمْ وَٱلْأَوَّلِينَ٣٨
یہ ہے فیصلے کا دن ہم نے تمہیں اور اگلوں کو سب کو جمع کرلیا ہے
فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ٣٩
پس اگر تم مجھ سے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل لو
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ٤٠
وائے ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے
إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى ظِلَـٰلٍ وَعُيُونٍ٤١
بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں اور بہتے چشموں میں
وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ٤٢
اور ان میووں میں جن کی وه خواہش کریں
كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ٤٣
(اے جنتیو!) کھاؤ پیو مزے سےاپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ٤٤
یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ٤٥
اس دن سچا نہ جاننے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے
كُلُوا۟ وَتَمَتَّعُوا۟ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ٤٦
(اے جھٹلانے والو) تم دنیا میں تھوڑا سا کھا لو اور فائده اٹھا لو بیشک تم گنہگار ہو
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ٤٧
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرْكَعُوا۟ لَا يَرْكَعُونَ٤٨
ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ٤٩
اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے
فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ٥٠
اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان ﻻئیں گے؟